hitech - ہائی ٹیک کمپنیاں انسانی دماغ کنٹرول کرنے کےلئے بے تاب

دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں ایسی ایجاد میں مصروف ہیں، جن کی مدد سے انسانی دماغ کو چپ کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں آئندہ دس سالوں کے بعد ایک ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی خیالات اور نظریات پر اثر انداز ہوسکیں گی۔

امریکی ماہرین کے گروپ نے یہ انکشاف ایک تحقیق کے بعد کیا، جس میں دماغی چپس کے ذریعے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی رسائی پر غور کیا گیا۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ دس سالوں یعنی 2030 کے بعد اس ٹیکنالوجی کو تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جائے گا۔

امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر برائے نیورو سائنس نے خدشہ ظاہر کیا کہ چپ کے ذریعے انسانی دماغ کو کنٹرول کرنے کا خیال اب کوئی سائنسی افسانہ نہیں رہا، کیونکہ اسے جلد حقیقت میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اس وقت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے آلات کی تیاری میں مشغول ہیں، جو اسمارٹ فونز کی جگہ ہمارے دماغوں کو انٹرنیٹ سے جوڑ دیں گے، اور انسان اسمارٹ فون کے بجائے دماغ سے ہی انٹرنیٹ استعمال کرے گا۔

نامور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا بھی ان دنوں بندروں کے دماغ کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے تجربے میں مصروف ہے جبکہ فیس بک نے بھی انسانی دماغوں کو کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کرنے کا کام شروع کردیا ہے

ماہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور تیاری پر ابھی سے ہی پابندی عائد کردے۔