medicine - ملتان:موت کے سوداگر پکڑے گئے، 10کروڑ کی جعلی ادویات برآمد

ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے ڈبل پھاٹک کے علاقے چاہ تھلے والا میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر جعلی ادویات کا ملتان کی تاریخ کا سب سے بڑا سٹاک برآمد کر لیا ہے۔
گھر کے مختلف حصوں میں کروڑوں روپے مالیت کی جعلی ادویات سٹاک کی گئی تھیں۔اس کے علاوہ جعلی پیکنگ مٹیریل اور مہریں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

جعلی ادویات بارے اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر علی شہزاد موقع پر پہنچ گئے۔سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر شعیب الرحمان، ڈرگ کنٹرولر راو ساجد اور سی ایس او شبانہ سیف بھی انکے ہمراہ تھیں۔

ڈپٹی کمشنر نے گھر کی نچلی اور بالائی منزل پر سٹاک کی گئی ادویات کا معائنہ کیا۔گھر کا ڈرائنگ روم،سٹور، بیڈ رومز، صحن جعلی ادویات کے ڈبوں سے بھرے پڑے تھے۔

ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کو جعلی ادویات کے کاروبار بارے دو ماہ قبل ٹپ ملی تھی، محکمہ صحت کا ڈرگ کنٹرول کا شعبہ جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کا پیچھا کررہا تھا، مکمل ریکی کے بعد پولیس کے ہمراہ گھر پر چھاپہ مارا گیا اور بھاری مقدار میں جعلی ادویات برآمد کی گئی ہیں۔جن میں اینٹی بائیوٹک اور دیگر جان بچانے والی میڈیسن بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے معاشرے کے ناسور ہیں، اور انسانی زندگی سے کھیلنے والے یہ عناصر عبرتناک سزا کے حقدار ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افضل نامی شخص عادی مجرم ہے، اور یہ پہلے بھی جعلی ادویات کا کاروبار کرنے کے جرم میں سزا کاٹ چکا ہے، لیکن اس بار مضبوط کیس تیار کیا جائے گا اور یہ کڑی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

علی شہزاد نے بتایا کہ کچھ ادویات کے لیبلز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی سرکاری ہسپتال کی ملکیت ہیں، اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کی جائے گی، اور جعلی ادویات میں ملوث پورے گروہ کو بے نقاب کیا جائے گا۔